اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق میں اسلحہ حکومتی کنٹرول میں دینے کی مقررہ مدت قریب آنے اور بغداد پر امریکی دباؤ بڑھنے کے ساتھ عراقی مزاحمتی دھڑوں نے اپنے مطالبات کا دائرہ معاشی شعبے تک بڑھا دیا ہے۔ ان دھڑوں کا کہنا ہے کہ عراق کی تیل کی آمدنی اور مالی فیصلوں پر بیرونی اثر و رسوخ کا خاتمہ ضروری ہے۔
مزاحمتی رہنماؤں نے معاشی خودمختاری پر زور دیتے ہوئے تیل کی فروخت کے ذرائع اور بینکاری روابط کو متنوع بنانے کو امریکی مالی نظام پر بغداد کا انحصار کم کرنے کا اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔
حرکت النجباء کے سیکریٹری جنرل شیخ اکرم الکعبی نے عراق کے مالی وسائل پر امریکی نگرانی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے تیل کی فروخت کے ذرائع اور بغداد کے بینکاری روابط میں تنوع پیدا کرنے کا مطالبہ کیا۔ کتائب سیدالشہداء کے سیکریٹری جنرل ابوعلاء الولائی نے بھی امریکا پر عراق کے معاشی وسائل میں مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے بغداد کے لیے آزادانہ مالی اور تجارتی فیصلوں کی ضرورت پر زور دیا۔
عراق کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی 2003 سے امریکی ڈالر میں نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک میں موجود ایک اکاؤنٹ کے ذریعے کلیئر ہوتی ہے۔ چونکہ عراق کی حکومتی آمدنی کا تقریباً 90 فیصد تیل پر منحصر ہے، اس لیے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ نظام واشنگٹن کو بغداد پر معاشی دباؤ ڈالنے کے لیے مؤثر ذریعہ فراہم کرتا ہے۔
حرکت النجباء کے رہنماؤں میں شامل ماجد الکعبی نے بھی عراق کی سیاسی اور معاشی خودمختاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بغداد کو امریکی اثر و رسوخ سے نجات حاصل کرکے اپنے خودمختار فیصلے بیرونی دباؤ کے بغیر کرنے چاہئیں۔
پارلیمنٹ میں حقوق پارلیمانی اتحاد کے رہنما مقداد الخفاجی نے بھی کہا کہ معاملہ صرف ہتھیاروں تک محدود نہیں بلکہ عراق کے مالی اور تیل کے وسائل پر مکمل خودمختاری بھی اس کشمکش کا اہم حصہ ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ واشنگٹن بغداد پر دباؤ ڈالنے کے لیے مالی اور معاشی ذرائع استعمال کرتا ہے۔
دوسری جانب عراقی حکومت بعض گروہوں کے غیر رجسٹرڈ ہتھیار سرکاری تحویل میں لینے کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ عراقی سکیورٹی میڈیا سیل کے مطابق اب تک 5 لاکھ 80 ہزار سے زائد ہتھیار تحویل میں لیے جا چکے ہیں، جبکہ ہتھیاروں کو منظم کرنے کے لیے قائم قومی کمیٹی کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
آپ کا تبصرہ